58SHARES

والضحیٰ ، والیل اذا سجیٰ

والضحیٰ ، والیل اذا سجیٰ
قسم ہے پہلی روشنی کی اور رات کی کہ جب وہ اسے ڈھانپ لے
یہ دونوں آیات 93 نمبر سورۃ کی شروعاتی آیات ہیں اور یہ تب نازل ہوئی تھیں جب ابو لہب کی بیوی عوراء نے نبی کریم ﷺ کو بیمار ہونے پر کہہ دیا کہ
’’محمد ! لگتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے‘‘
(والعیاذ باللہ) … عوراء کی اس بات پر نبی ﷺ بہت رنجیدہ ہوئے تھے ، ان کے دل کو بہت دکھ پہنچا اور تبھی ان آیات کا نزول ہوا تھا ۔
لیکن آپ نے کبھی سوچا ہے کہ والضحیٰ کی آیات میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ یہ نبی کریم ﷺ کے دل کو ڈھارس اور تسلی دینے کے لیے بھیجی گئیں ؟ اور ان آیات کا آغاز صبح کی پہلی روشنی کا ذکر کرنے سے کیوں ہو رہا ہے ؟ اس سوال کا جواب ، آپ کو تھریڈ کے آخر تک پہنچتے پہنچتے ان شاء اللہ ضرور مل جائے گا ۔

ضحیٰ کیا ہوتی ہے ؟ یہ سورج سے زمین تک پہنچی پہلی روشنی کو کہتے ہیں ، اور اردو کا کوئی بھی لفظ چاہے وہ شعاع ہو یا کرن یا پھر انگلش کا کوئی لفظ ہو یعنی light ، وہ عربی کے اس لفظ ضحیٰ کا متبادل نہیں ہو سکتا اس لیے پورے تھریڈ کے اندر میں ضحیٰ ہی کا لفظ استعمال کروں گا ۔

ضحیٰ کی پیدائیش سورج کے اندر اِنفیکٹ ایک لاکھ ستر ہزار سال پہلے ہو چکی ہوتی ہے ، ابھی بھی آپ باہر جائیں اور سورج کی کرنوں کو دیکھیں تو یہ ابھی کی نہیں بلکہ ڈیڑھ لاکھ سال پرانی روشنی ہے ، ضحیٰ کے ذرات جنہیں ہم فوٹانز کہتے ہیں ، ایک دفعہ وہ سورج کی سطح سے نکل جائیں تو پھر اس کا زمین کی طرف سفر شروع ہوتا ہے ۔

ویسے تو ضحیٰ کو ہماری زمین تک پہنچتے پہنچتے مزید 8.3 منٹس لگ جاتے ہیں لیکن زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی چمک نظر آنا شروع ہو جاتی ہے ، افق میں ایک بہت خوبصورت روشنی کے دائرے کی شکل میں جسے zodiacal light کہتے ہیں اور یہی وہ وقت ہے جسے ہم اپنی اردو میں صبح کاذب کہتے ہیں ۔ سورج سے لے کر زمین کے درمیان تک ، جتنے بھی شہابیئے ٹوٹ کر گزر چکے ، ان کی چھوڑی ہوئی گرد میں سے گزرتے ہوئے ضحیٰ کا پہلا عکس ہماری زمین پر روشنی کے اس دائرے کی شکل میں پڑنا شروع ہوتا ہے ۔ میں آپ کو اس کی تصویر دکھا دیتا ہوں

اس کے بعد جب ضحیٰ ہماری زمین سے تھوڑی ہی دور رہ جاتی ہے تو وہ وقت ہماری زمین پر dawn کہلاتا ہے اس وقت ضحیٰ زمین پر ایک بہت گہرا نیلا رنگ بنا رہی ہوتی ہے اور جو لوگ آرٹ سے محبت رکھتے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ سولہویں صدی کے ریناسانس دور میں ضحیٰ کے اس وقت کو کس قدر پینٹ کیا جاتا تھا۔
اِنفیکٹ فرینچ مصوروں نے تو اس کے لیے باقاعدہ ایک نام رکھا ہوا تھا l’heure bleue یعنی the blue hour اس وقت زیادہ تر چھوٹے ستارے تو چھپ چکے ہوتے ہیں لیکن چند بڑے ستارے اور کچھ سیارے مثلاً جیوپیٹر اور وینس ابھی تک نظر آ رہے ہوتے ہیں ۔ اِنفیکٹ آج سے چار ہزار سال پہلے سمندری ملاح ضحیٰ کی اس نیلے عکس کو ہی اپنی کشتیاں چلانے کا وقت سمجھتے تھے کیوں اس وقت زمین اور پانی میں فرق نظر آنا شروع ہو جاتا ہے ۔ میں آپ کو ضحیٰ کے blue hours کی تصویر دکھا دیتا ہوں ۔

اس کے بعد جب ضحیٰ ہمارے افق سے تھوڑا ہی دور رہ جاتی ہے تو وہ وقت اس کے رنگوں سے کھیلنے کا وقت ہوتا ہے ، انگلش میں اسے twilight کہتے ہیں ، نہ اندھیرا ہوتا ہے نہ روشنی ، اور اس وقت ضحیٰ آسمان میں چند بہت خوبصورت رنگ بھرتی ہے ۔ مشرق کے افق یعنی جہاں سے .
ضحیٰ ہماری زمین کی طرف آ رہی ہوتی ہے تو ان 120 سیکنڈز کے اندر اندر اس افق پر آسمان کے سات ہزار تک رنگ بدل سکتے ہیں اور یہی وہ خوبصورت وقت ہے جس کی قسم اللہ نے سورۃ انشقاق میں بھی اٹھائی ہے
’’قسم ہے شفق کی سرخی کی ، جب وہ چھا جائے‘‘ ۔

البتہ سورج نکلنے کے بالکل الٹی طرف یعنی مغرب میں اس وقت افق پر ایک بہت گہرے نیلے رنگ کی پٹی بنتی ہے مزے کی بات کہ یہ زمین کا اپنا سایہ ہوتا ہے جو ضحیٰ کی وجہ سے خلاء میں پڑ رہا ہوتا ہے اسے انگلش میں earth’s shadow کہتے ہیں اور میں آپ کو اس کی تصویر دکھاتا ہوں کہ افق کے ٹھیک اوپر وہ نیلی پٹی دراصل ضحیٰ کی وجہ سے خلاء میں پڑنے والا زمین کا اپنا سایہ ہے اور اس پوائینٹ پر پتہ نہیں کیوں میرے ذہن میں سورۃ فرقان کی آیت 45 آ گئی کہ دیکھو تمہارے رب نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا اور آپ کو پتہ ہے کہ ہماری زمین کا یہ سایہ چودہ لاکھ کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔

ضحیٰ کے ہمیں نظر آنے سے پہلے یعنی twilight کے وقت ، افق سے 10 ڈگری اوپر ایک رنگین پٹی بھی پیدا ہوتی ہے جسے belt of venus کہتے ہیں ، اس کا رنگ orange بھی ہو سکتا ہے ، purple بھی اورpink بھی ۔ اور یہ ضحیٰ کے زمین پر پہنچنے سے ٹھیک پہلے بنتی ہے … اس تصویر میں آپ کو زمین کے سائے سے اوپر purple-pink رنگ میں بیلٹ آف وینس صاف نظر آئے گی ۔ تاریخ میں جتنا بیلٹ آف وینس کو پینٹ اور فوٹوگراف کیا گیا ہے اتنا شاید ہی کوئی اور نیچرل فینامینا پینٹ یا فوٹوگراف کیا گیا ہو ۔

اور اب جب سورج افق سے طلوع ہو جاتا ہے یعنی sun-disk نظر آنا شروع ہو جائے تو اسے ہم اپنے پاکستان میں طلوع آفتاب کہتے ہیں اور یہی وہ وقت ہے جب ضحیٰ ہماری نگاہوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ اس وقت تو اس کا رنگ بہت زیادہ orange ہوتا ہے کیوں کہ افق اور ہمارے درمیان موجود ہوا 40 فیصد زیادہ dense یا آسان الفاظ میں بہت گاڑھی ہوتی ہے ، اس لیے ضحیٰ بھی ہم تک پہنچتے پہنچتے اپنا رنگ بدل لیتی ہے ۔ سائینس نے اس وقت کی ضحیٰ کو god ray یا پھر sunbeam کا نام دیا ہے ۔ اور یہ sunbeam ہماری دنیا میں سب سے پہلے پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر پڑتی ہے ، ان برف پوش پہاڑوں کی چوٹیوں پر پڑتی ضحیٰ بیشک قدرت کے خوبصورت ترین مناظر میں سے ایک ہے اسے انگلش میں alpenglow کہتے ہیں اور میں آپ کو اس کی تصویر دکھا دیتا ہوں ۔

اب جیسے جیسے sun-disk آسمان میں اوپر اوپر بڑھتی چلی جاتی ہے ، ضحیٰ کا اپنا رنگ بھی سفید ہونا شروع ہو جاتا ہے ، کیوں کہ افق کی نسبت اوپر کی ہوا 40 فیصد پتلی ہوتی ہے اس لیے ضحیٰ کا رنگ زیادہ بدلتا نہیں ، اس وقت چیزوں کے سائے واضح اور sharp ہو چکے ہوتے ہیں ، اور ضحیٰ خود بھی اتنی crisp ہو چکی ہوتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے سوراخوں میں سے نکل کر گہرے سائے بنا سکے ۔ میں آپ کو اومان کے پہاڑوں میں ’’مجلس الجن‘‘ نامی غار کی کچھ تصاویر دکھا رہا ہوں ، اس کا لفظی مطلب ہے ’’the meeting place of jinns‘‘ یہاں آپ ضحیٰ کی crispiness کو بہت آسانی سے دیکھ سکتے ہیں ۔
مجلس الجن ، اومان کے پہاڑوں میں ایک بہت بڑی غار ہے ، اس کے سائیز کا اندازہ آپ اس میں رسی سے لٹکے mountaineer کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں اور یہ دیکھتے ہی میرے ذہن میں سورۃ نحل کی آیت 81 آئی کہ

یہ اللہ ہی ہے جس نے اپنی تخلیق میں سائے بھی بنائے ہیں اور پہاڑوں کے غار بھی ۔

غاروں سے باہر ویسے تو اس وقت کھلا آسمان نیلے رنگ کا ہوتا ہے لیکن اس وقت اگر دنیا کے سب سے بڑے صحراء یعنی صحارا سے ریت اور گرد کے بادل اٹھ کر دنیا میں پھیل رہے ہوں تو آسمان کا رنگ نیلے سے سفید میں بدل جاتا ہے بلکہ عرب اور پاکستان میں اکثر یہ گرد پہنچتی ہے ۔ لیکن کیا اس سے ضحیٰ کے کھیل پر کوئی فرق پڑتا ہے ؟ ذرا پڑھتے جایئے !

کبھی کبھار ہماری زمین کے اوپر ہوا میں ice crystals معلق ہوتے ہیں یعنی برف کے چھوٹے چھوٹے ذرات ، اس کے لیے انگلش میں ایک بہت خوبصورت سا نام ہے diamond dust ، اگر ضحیٰ اس ڈائیمنڈ ڈسٹ سے گزرے تو وہ بڑے خوبصورت طریقے سے refract ہوتی ہے اور فضاء میں بڑے پیارے روشنی کے دائیرے بناتی ہے جسے halo یا پھر ’’ہالہ‘‘ کہتے ہیں اور ان آئیس کرسٹلز کی ذرا سی شیپ بدلنے کی دیر ہے کہ فوراً ضحیٰ بھی اپنا افیکٹ ایکدم سے بدل لیتی ہے یعنی اگر یہ ڈائیمنڈ ڈسٹ crystal plate کی شکل میں ہوجائے تو آسمان میں ایک سادہ دائرے کے بجائے ضحیٰ ایک رنگین ہالہ بنا دیتی ہے ، میں آپ کو دونوں قسم کے halos کی تصویریں دکھا دیتا ہوں ۔

اور اس سے بڑھ کر کہ اگر یہ آئیس کرسٹلز چھ کونوں والے ہو جائیں تو ضحیٰ کے چند نایاب ترین نظاروں میں سے ایک ںظارہ دیکھنے کو ملتا ہے جسے parhelia کہتے ہیں یعنی سورج کے برابر میں دو مزید سورج ۔ ویسے تو میں آپ کو تصویر سے سمجھا دیتا ہوں لیکن اس دفعہ تصویر کے ساتھ میں آپ سے ایک تحریر بھی شیئر کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ تحریر پہلی صلیبی جنگ میں شامل ہونے والے ایک عیسائی پادری fulcher of chartres نے اپنے جرنلز historia hierosolymitana میں لکھی تھی ۔ وہ لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔
فروری 23 ، سنہ 1127ء

’’ہم نے مسلمانوں کے ساتھ لڑائی کے تیسرے پہر (یعنی صبح نو بجے) سورج کے برابر میں مزید دو سورج ابھرتے دیکھے ، ان کے گرد بہت سے رنگ بھی بنے ہوئے تھے ، یہ نظارہ اتنا خوبصورت تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں نے تھوڑی دیر کے لیے لڑائی روک دی تھی‘‘

ضحیٰ کا یہ کھیل صرف آئیس کرسٹلز تک محدود نہیں ، اگر ہوا میں بادل موجود ہوں تو ان بادلوں کے اندر کیا ہے ، اس پر ڈیپینڈ کرتے ہوئے جب ضحیٰ ان میں سے داخل ہوتی ہے تو ایک بہت ہی خوبصورت واقعہ پیش آتا ہے جسے cloud iridescence کہتے ہیں ، یہ اتنا خوبصورت منظر ہوتا ہے کہ اس کا نام یونانیوں نے اپنی دیوی iris کے نام پر irisation رکھا تھا اب چونکہ بادل بخارات سے بنے ہوتے ہیں اس لیے ضحیٰ ان کے اندر پھیلنا شروع ہوجاتی ہے اور رنگوں کا ایک کھیل شروع ہوتا ہے جس میں تمام کے تمام رنگوں کے spectrum کا 95 فیصد تک نظر آ سکتا ہے ، آپ اس بات کا مطلب جانتے ہیں ؟ اس کا مطلب ہوتا ہے رنگوں کے ایک لاکھ مختلف شیڈز ۔ اور سورۃ بقرۃ کی آیت 164 فوراً ذہن میں آتی ہے کہ بادلوں میں تو سوچنے سمجھنے والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں ۔

اور اب ضحیٰ کا وہ کرتب جس سے تقریباً ہم سب ہی واقف ہیں ، بارش کے بعد بننے والی رنگوں کی ایک گول پٹی ، یعنی قوس قزاح ! اور یہ تب بنتی ہے جب ضحیٰ ہوا میں موجود پانی کے قطروں سے گزرے ، اور اگر ضحیٰ ان قطروں میں ایک کے بجائے دو دفعہ refract ہو جائے تو ایک نہیں بلکہ دو قوس قزاح بھی بن سکتی ہیں اور کبھی کبھار اسکا سرا بھی دیکھا جا سکتا ہے تصویر میں آپ درختوں کے اندر قوس قزاح کو گرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ۔ آئیر لینڈ میں قوس قزاح کے گرنے کے اس مقام کے متعلق بڑی دلچسپ کہانیں ہیں جیسا کہ جہاں قوس قزاح گرے وہاں خزانہ دفن ہوتا ہے وغیرہ جیسی بہت سی لوک کہانیاں بھی ۔

شاید آپ کے ذہن میں ایک سوال آ رہا ہو کہ کیا ضحیٰ صرف آسمانوں ہی میں اپنی خوبصورتی دکھاتی ہے ؟ تو جواب ہے نہیں ! ذرا یہ تصویر دیکھیں جس میں ایک شخص کے زمین پر پڑتے سائے پر بالکل ایک چھوٹی سی قوس قزاح بنی ہوئی ہے ، آسان ترین الفاظ میں ، یہ زمین ہی پر موجود بخارات کی وجہ سے ہوتا ہے اور اسے انگلش میں glory کہتے ہیں اور یہ شاید وہ نظارہ ہے جسے ہم میں سے بہت کم لوگوں نے دیکھا ہو گا ۔

کسی زمانے میں اپنی سٹڈی کے دوران مجھے ایک بہت عجیب خط پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا جسے سنہ 1571 میں ایک اٹالین پینٹر cellini نے اپنے ایک دوست کو لکھا تھا کہ آج میرا سایہ سفید ہو گیا ، اس وقت مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی تھی لیکن آج ہم اس فینامینا کو cellini’s halo کے نام سے جانتے ہیں ۔ یہ تب ہوتا ہے جب ضحیٰ ہوا میں موجود شبنم کے قطروں سے اس طرح گزرے کہ زمین پر پڑے سائے کے گرد ایک سفید دائیرہ سا بن جاتا ہے جو واقعتاً بڑے عجیب مناظر میں سے ایک ہے اور یہ دائرہ آپ کے سائے کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے اور اس لیے بھی اس سفید روشنی کے حوالے سے بہت دلچسپ لوگ کہانیاں بنیں

یہاں تک تو میں نے آپ کو ضحیٰ کے دن کے وقت پیدا کیے گئے phenomenas کے بارے میں بتایا لیکن اب اس سے آگے میں آپ کو ان نظاروں کے بارے میں بتاؤں گا جو شام اور پھر رات کے وقت دکھاتی دیتے ہیں اور اِنفیکٹ جن میں سے کچھ phenomenas کو سورۃ انشقاق میں ’’رات کو جمع ہونے والے‘‘ کہہ کر refer کیا گیا ہے لیکن یہاں پہلے ایک چیز سمجھ لیں کہ دن کے وقت آسمان کا رنگ نیلا کیوں نظر آتا ہے ، اصل میں ہوتا یہ ہے کہ جب سورج کی روشنی ہماری فضاء میں داخل ہوتی ہے تو ہماری ہوا کے مالیکیولز اس روشنی میں سے نیلے رنگ کو علیحدہ کر کے فضاء میں بکھیر دیتے ہیں ۔ یہ reyleigh effect کہلاتا ہے اور جیسے جیسے سورج افق کی طرف ڈھلنا شروع ہوتا ہے ، ویسے ویسے reyleigh effect کمزور ہوتا جاتا ہے کیوں کہ اب ضحیٰ اور ہمارے درمیان ہوا کے بہت سارے مالیکیولز ہوتے ہیں اور نیلا رنگ اب پہلے کی سی تیزی سے علیحدہ نہیں ہو پا رہا ہوتا ۔ انفیکٹ اس وقت کاایک گھنٹہ golden hour کہلاتا ہے اور سینما کی زبان میں اس وقت کو magic hour بھی کہتے ہیں ، یہ 20 سے 30 منٹ تک رہتا ہے ۔ اور اس وقت ضحیٰ ایک brilliant golden رنگ میں بدل جاتی ہے ایک لیمپ کی روشنی کی طرح ، بالکل ویسے جیسے سورۃ نوح کی آیت 16 میں ڈیفائین ہے ، ایک چمکتے چراغ جیسا سورج

گولڈن آور گزر جانے کے بعد ایک دفعہ پھر سے آسمان میں سرخی بڑھنا شروع ہوتی ہے ، twilight کا وقت قریب آنے لگتا ہے اور چند بہت خوبصورت باتیں وقوع پذیر ہوتی ہیں ۔

اس وقت ضحیٰ افق کے بالکل قریب ہوتی ہے اس لیے اب یہ بادلوں کے اوپر سے آنے کے بجائے ان کی نیچے سے ان تک پہنچتی ہے اور اگر اگر یہ بادل polar stratospheric clouds قسم کے ہوں یعنی کہ زمین سے تقریباً 25 کلومیٹر اوپر کے بادل ، تو یوں لگتا ہے جیسے آسمان میں رنگوں کا ایک سمندر سا بہہ رہا ہو ۔

جیسے جیسے ضحیٰ افق میں چھپتی جاتی ہے ، ویسے ویسے اس کے کھیلوں میں بھی تیزی آتی جاتی ہے اور کبھی کبھی یہ افق پر وہ چیزیں بھی بناتی ہے جو وہاں موجود ہوں ہی نہ ، لاطینیوں نے اپنی زبان میں اسے mirare کہہ کر ڈیفائین کیا تھا جس کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز پر حیران ہونا یا to wonder upon اور یہیں سے لفظ mirage بھی نکلا ہے ، میں آپ کو ایک تصویر دکھاتا ہوں کہ کیسے ضحیٰ سمندر کی سطح پر ایک چھوٹے سے شہر کا سراب بنا رہی ہے حالانکہ یہ دور ساحل پر بنا صرف ایک چھوٹا سا ٹیلہ تھا ۔

جیسے ہی سورج افق سے نیچے جاتا ہے یعنی ہماری زبان میں غروب ہوتا جاتا ہے ، کبھی کبھی اس وقت ایک بہت نایاب واقعہ رونما ہوتا ہے ، یہ ضحیٰ کو آخری بار دیکھنے کا لمحہ ہوتا ہے جس وقت وہ اچانک سے سبز ہو جاتی ہے ، اسے green flash کہتے ہیں اور یہ منظر عموماً سمندروں میں دیکھنے کو ملتا ہے سمندر پر افق بہت صاف ہوتے ہیں اور ضحیٰ سیدھی ہماری آنکھوں تک پہنچ رہی ہوتی ہے اس کے بہت سارے ٹیکنیکل ریزن بتائے جاتے ہیں لیکن اگر میں ان تمام وجوہات کو صرف ایک لفظ میں آپ کے سامنے رکھوں تو وہ ہے ’’حیرت کدہ‘‘۔ اس تصویر میں آپ سورج کے غروب ہوتے ضحیٰ کی آخری گرین فلیش دیکھ سکتے ہیں

اوکے ، یہاں تک تو میں نے آپ کو ضحیٰ کے دن کا کھیل دکھایا ، لیکن مزے کی بات کہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ sun-disk جب افق سے 18 ڈگری نیچے چلی جائے تو ٹیکنیکلی اس وقت رات کا وقت ڈکلیئر ہو جاتا ہے اور عام سائینس کی زبان میں رات کی باقاعدہ ڈیفینیشن کیا ہے ؟

’’دن کی روشنی کا نہ ہونا‘‘
یا پھر ambient darkness کا پھیل جانا ، آسان الفاظ میں سائینس کی زبان میں روشنی کا نہ ہونا اندھیرا ہے ۔ لیکن آپ کو ایک دلچسپ بات بتاؤں ؟

سورۃ انعام کی بالکل پہلی آیت پڑھیں ، تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے اندھیروں کو بنایا ۔ یعنی کہ روشنی کی طرح اندھیرا بھی ایک تخلیق ہے ۔

سترہویں صدی کے ایک جرمن سائینسدان heinrich olber نے ایک سوال اٹھایا تھا کہ جس کا آج 300 سال بعد بھی کوئی صحیح جواب موجود نہیں ہے ۔ اس کے سوال کو olber’s paradox کہتے ہیں ۔ آسان الفاظ میں اس نے یہ کہا تھا کہ

’’رات کا اندھیرا ، ایک لامحدود کائینات کے نظریئے سے ٹکراتا ہے‘‘

یعنی کہ ، اگر یہ کائینات واقعی لامحدود ہے اور اس کا کوئی کنارہ نہیں اور اس میں ان گنت ستارے موجود ہیں تو رات کے آسمان میں ہم جس طرف بھی دیکھیں ہماری نگاہ ایک ستارے پر ہی پڑنی چاہیئے تھی ، اور رات کا آسمان بہت زیادہ روشن ہونا چاہیئے تھا ۔ یا پھر اس سے بھی زیادہ آسان الفاظ میں وہ یہ کہ رہا تھا کہ

’’لگتا یوں ہے کہ جیسے اندھیرا نام کی کوئی فزیکل چیز واقعی موجود ہے ، جو روشنی کو ہم سے چھپا رہی ہے ۔ یہ اس قدر دلچسپ ٹاپک ہے کہ میں آج کے دن اسے مزید چھیڑے بغیر صرف اتنا بتاؤں گا کہ لیل یعنی رات ، واقعی ایک فزیکل شئے ہے گائیز جو ضحیٰ کو ڈھانپ لیتی ہے ۔ اب سورج ، افق سے نیچے جا چکا اور ضحیٰ نظر آنی بند ہو چکی لیکن کیا یہ کھیل یہاں ختم ہو جاتا ہے ؟ بالکل نہیں بلکہ اس وقت یہ آسمان میں بہت بلندی یعنی 85 کلومیٹر اونچائی پر اپنا ایک بہت خوبصورت شو کرتی ہے جسے noctilucent cloud کہتے ہیں ، یہ ضحیٰ کے پراسرار ترین کھیلوں میں سے ایک ہے اور آج تک اس کی صحیح حقیقت واضح نہیں ہو سکی ۔ فِن لینڈ اور ایسٹونیا میں اسے night shining cloud یعنی رات کو چمکنے والے بادل بھی کہتے ہیں ۔ اس بلندی پر ٹمپریچر بہت کم یعنی 78- ڈگری ہوتا ہے اور فضاء میں میتھین گیس بھی بہت زیادہ ہوتی ہے ، شاید ان تمام فیکٹرز سے مل کر ضحیٰ یہ خوبصورت منظر بناتی ہے ، میں آپ کو تصویر دکھا دیتا ہوں کیوں کہ ان کی خوبصورتی ڈسکرائیب کرنے کے لیے شاید الفاظ کم پڑیں ۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رکھیئے کہ یہ بادل نہیں ہیں بلکہ ضحیٰ کی صرف اور صرف ایک trick ہے جو رات کے آسمان میں نظر آ رہی ہے ۔

اب ذرا اس تمام تھریڈ ، اور جو جو تصویریں میں نے آپ کو دکھائی ہیں ، انہیں ایک دفعہ پھر سے ذہن میں لایئے ، ضحیٰ ، سورج سے نکلی پہلی روشنی جو ہماری زمین میں قدرت کے خوبصورت ترین نظارے پیدا کرتی ہے ، اللہ تعالیٰ ان کا ذکر کیوں فرما رہا ہے ؟
جیسے کوئی گرینڈ ماسٹر ، کوئی بہت بڑا مصور ، ایک اداس انسان کو اپنی بیوٹی فل پینٹنگز دکھا کر اس کے دل کو خوش کر رہا ہو ، اسے تسلی دے رہا ہو ، اسے ڈھارس دے رہا ہو ، کیوں کہ خوبصورتی انسان کے دماغ میں hard-wired ہے گائیز ، خوبصورتی کو دیکھنا دماغ کے reward-center کو ایکٹیویٹ کرتا ہے
یہ ہمیں خوشی کا احساس دلاتی ہے ، اور اللہ پاک اپنے بندے کو اپنی ضحیٰ سے بنائی خوبصورت نشانیاں دکھا کر اس سے اگلی آیت میں کہتا ہے

’’نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی وہ تجھے بھولا ہے‘‘

آپ جانتے ہیں اس ہفتے یہ تھریڈ لکھنے کی وجہ ایک ذاتی اداسی بنی تھی ، اور میں قرآن پاک میں اسی اداسی کا حل ڈھونڈ رہا تھا ، اور تبھی والضحیٰ میرے سامنے آئی اور سچ کہوں تو یہ سب لکھنے اور ضحیٰ سے پیدا ہوئے یہ تمام مناظر دیکھنے کے بعد میں بھول بھی چکا تھا کہ مجھے کوئی اداسی بھی تھی ۔ بلکہ میں تو ضحیٰ کو ڈھونڈتا ڈھونڈتا کہاں سے کہاں پہنچ گیا ، لیکن یہ سب یہیں ختم نہیں ہوتا
آپ نے اس سے بھی آگے کی آیات پڑھیں ؟ میں آپ کو ان کا مفہوم بتاؤں ؟

‘‘جو آنے والا ہے ، وہ گزر چکے سے بہتر ہو گا ، اور تمہارا رب تمہیں وہ دے گا ، جس سے تم خوش ہو جاؤ گے ، کیا اس نے تمہیں یتیم پا کر رہنے کی جگہ نہیں دی ؟ کیا اس نے تمہیں بھٹکا ہوا پا کر راستہ نہیں دیا ؟ …
کیا اس نے تمہیں ضرورت مند پا کر تمہیں غنی نہیں کر دیا ؟‘‘

ان الفاظ کو اپنے دل پر محسوس کریں ، کیسے اللہ اپنے بندے کو اپنی ضحیٰ سے بنائے اتنے خوبصورت مناظر دکھا کر اسے خوش کر رہا ہے ، اسے بتا رہا ہے کہ اس ضحیٰ کی قسم ، جس سے میں اتنے خوبصورت رنگ بکھیرتا ہوں …
تمہارا دل سکون محسوس کرے گا اور تسلی رکھو کہ میں تمہیں کبھی ایسے اکیلا نہیں چھوڑوں گا ۔

اور میرا نہیں خیال کہ ایک دل رکھنے والا انسان ، ان آیات کو ایک دفعہ سمجھ کر پڑھنے کے بعد اپنی اداسیاں بھول کر اللہ سے محبت کیے بغیر رہ سکتا ہے ۔

فرقان قریشی